مسیح قرآن میں
تعارف
ان صفحات پر دی گئ معلومات مسلمانوں کے لیے ہیں اور قرآن میں سے دی گئیں هیں۔ تصدیق کے لیے آپ قرآن دیکه سکتے هیں۔
قرآن میں مسیح کو خدا نہیں کہا گیا ، نہ ہی خدا کا بیٹا ، اور نہ ہی وہ آدمی جو سولی پر مصلوب ہوا ۔ قرآن میں مسیح ایک نبی هے ۔ جس کا پیغام یہودیوں نے رد کیا۔ انہوں نے اسے مسیحا کہا لیکن صرف اس لیے کہ وہ خدا کا پیغمبر تها ﴿قرآن 4:171﴾ اس پر انجیل اتری (قرآن 57:27)۔
معجزاتی مسیحا
مسیح کی زندگی کا سب سے بڑا معجزہ اس کی پیدائش هے ﴿قرآن 19:16﴾ پس مسیح معجزاتی طور پر پیدا هوا ۔ کیونکہ اس کی پیدائش مرد کے بغیر ہوئ۔ مسیح کی یہ پیدائش سوال اٹهاتی هے کہ کیا مسیح جسمانی تها یا پهر روحانی ؟ کیا مسیح صرف انسان نہ تها کیونکہ وہ آدم کی طرح ہی تخلیق ہوا ؟ هاں هم قرآن میں حضرت آدم اور مسیح کے درمیان مشہابت پڑهتے هیں (رآن 3:59) مسیح اور آدم خدا کے سامنے ایک ہی طر ح کے ہیں۔ خدا نے آدم کو مٹی سے بنایا اور کہا زندہ هو جا اور وه هو گیا۔
تاہم قرآن صرف مشہابت ہی نہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق کو بهی ظاہر کرتی هے۔
- آدم کسی جسمانی ماں اور باپ کے پیدا هوا (قرآن 2:30, 15:28, 32:7)۔
- مسیح ایک کنواری سے پیدا هوا (قرآن 19:20)۔
- آدم مٹی سے پیدا کیا گیا اس لیے وہ خاکی هے (قرآن 15:28, 32:7)۔
- مسیح خدا کے حکم سے پیدا هوا اور وہ آسمانی هے (قرآن 3:45)۔
- خدا نے مریم کو ایک بیٹا دیا جو کہ بے عیب تها (قرآن 19:19)۔
ان حقائق کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے هیں کہ یہاں پر یسوع اور آدم کے خیالات کے درمیان چند قابل لحاظ اعترازت هیں۔ آدم نیچے سے پیدا هوا اور یسوع مسیح اوپر سے کیونکہ یسوع بغیر گناہ کے اور خدا کے الفاظ سے پیدا هوا تها اور اسکا اونچا مرتبہ تها۔ ہم خدا کے کلام ﴿کلمہ﴾ اور بائبل میں خدا کے الفاظ کو اعلی مقام دیتے هیں۔ خدا کا کلام اور روح ہمیشہ تک رهیں گے جیسے کہ خدا اپنے کلام اور روح سےآج تک الگ نہیں ہو سکا۔ قرآن کے مطابق زمین پر یسوع کی زندگی میں کوئ گناہ نہیں تها۔ ﴿قرآن 19:19﴾ حالانکہ زمیں پر آدم نےاپنی زندگی میں خدا کی نافرمانی کی (قرآن 2:36 ) آدم یسو ع المیسح خدا کے کلمہ کی طرح کی خصوصیات حاصل نہیں کرسکا تها۔
مسیح کی شناخت
پس قرآن کی رو سے مسیح روحانی فطرت کا تها ۔ اور جب مسیح یعنی خدا کا کلام مجسم نہیں هوا تها جیسا کہ مسیحی مانتے هیں ، اور جب وہ فانی نہ تها ، تب وہ کیا تها ؟ میسح کی پہچان کیا تهی؟ هم یہاں قرآن کے مکمل حقائق درج کررہے ہیں ۔ قرآن میں بہت سارے حقائق موجود هیں۔
- قرآن میں مسیح کو بہت سارے خطابات دیے گیۓ هیں۔
- جیسے نشان ﴿قرآن 19:21, 21:19﴾ رحمت ﴿قرآن 19:21﴾ اور گواہ ﴿قرآن 5:117)۔
- مسیح کو قرآن میں حوالہ دیتے هوۓ بولتا بتایا گیا هے۔
- مسیح کے اوپر قرآن میں کسی قسم کی تنقید نہیں کی گئ۔
- قرآن میں مسیح خدا کا رسول هے ، اور خدا کا کلام ﴿کلمہ﴾ اور خدا کی ﴿روح﴾ (قرآن 4:171)۔
عربی لفظ البشر بشر ، انسان کے فانی هونے کو ظاہر کرتا هے نہ کہ روحانیوں کی دنیا کو ظاہر کرتا هے۔ محمد ایک فانی انسان تها جیسے کوئ دوسرا ایک﴿قرآن 18:110, 41:6﴾ پیغمبر ۔ اس لیے یہ عجیب هے کہ اس فانی دنیا سے مسیح کا کوئ تعلق نہیں یہاں یہ ثبوت فراہم کیا گیا هے کہ مسیح خدا نہیں تها بلکہ انسان تها ۔ اب هم اس سوال کو گہرائ سے دیکهتے هیں کیا مسیح اصل میں کسی اور پیغمبر جیسا تها ؟ یاد رکهو قرآن مسیح کے بارے میں کیا کہتا هے؟
- مسیح ایک کنواری سے پیدا هوا (قرآن 19:20)۔
- مسیح بے عیب تها (قرآن 19:19)۔
- مسیح کے بیماروں کے لیے نجات دہندہ تها (قرآن 3:49, 5:110)۔
- مسیح خدا کی طرف سے آسمان سے اتارا گیا (قرآن 4:158)۔
- مسیح دوبارہ واپس آۓ گا۔ (قرآن 3:45, 43:61)۔
مگر یہی تمام نہیں هوتا ۔ قرآن مسیح کے بارے میں اور بهی کہتا هے کہ اس کا نبیوں میں ایک خاص مقام هے ۔ ﴿قرآن 2:253﴾ مسیح کےلیے خدا کے نشانات دیکهائ دئے ﴿قرآن 43:63 ﴾ اور مسیح کو روح القدس عطا کیاگیا ﴿قرآن 2:253﴾ مسیح کو خاص قرار دیاگیا اس دنیا میں بهی اور آنے والی دنیا میں بهی ﴿قرآن 3:45﴾ یہ تمام حقائق اس کی برکات اور اس کے مقدس هونے کو ظاہر کرتی هے۔[5]
صرف مسیح نے ہی لوگوں کو زندگی عطا کی ﴿قرآن 3:49﴾ کسی اور پیغمبر نے قرآن میں ایسیا نہیں کیا ۔ اس لیے مسیح کے پاس وہ درجہ هے جو کہ کسی بهی دوسری شخصیت یا انسان کے پاس نہیں هے۔ اب آپ مسیح کے بارے میں کیا سوچتے هیں ؟ کیا اب بهی آپ یہ کہتے هیں کہ وہ ایک نبی تها؟
اضافی مطالعہ
عض مسلمان یہ سوچتے هیں کہ انهیں صرف قرآن ہی پڑهنا چاہییے جو کہ خدا کا آخری کلام هے ۔ وہ یہ سوچتے هیں کہ توریت ، انجیل ، موسی کی کتابیں ، اور زبور یہ قابل توجہ نہیں هیں ۔ مگر یہ قرآن کے مطابق نہیں هیں۔ کیوں ؟ کیونکہ قرآن کے مطابق 361 اور 364 مسلمانوں کو اہل کتاب کے ساته بات چیت کرنے کا حکم دیتی هے تاکہ وہ سچ کی تلاش کرسکیں طبری ﴿موت 923 عیسوی ﴾ ایک بہت بڑا مسلمان سکالر تها ۔ اس نے قرآن کے اوپر بہت ساری کتابیں لکهیں جسے (قرآن 28:28) طبری پوچهتا هے ابراہیم کی کیا خطا تهی ؟ وہ ابراہیم کے تین جهوٹ بیان کرتا هے۔
- یہ کہنا کہ میں بت پرستی کو نظر انداز نہیں کرسکتا (قرآن 37:89)۔
- جب اس نے بتوں کو توڑنے کے الزام کو ٹهکرایا اور کہا یہ خدا نے کیا هے (قرآن 21:63)۔
- اور جب اس نے کہا کہ سارہ اسکی بیوی نہں بلکہ بہن هے۔
آپ کو نمبر 3 والی بات قرآن میں نہیں ملے گی کیونکہ یہ صرف بائبل میں هے (پیدائش 12:11).
اس بڑے مسلم سکالر نے اس کو بائبل میں سے تلاش کیا تاکہ وہ سوال کا جواب دے سکے۔
کیونکہ اے محمد جو ہم نے تم پر ظاہر کیا تم سے پہلوں پر بهی ظاہر کیا (قرآن 10:94)۔
اس لیے مسلمانوں کے لیے یہ ضروری هے کہ وہ صرف اسی پر اعتقاد نہ رکهیں جو ان کے پاس هے بلکہ اس پر بهی جو دوسروں کے پاس هے اور ان کو مسیح کے بارے میں مکمل آگاہی ہونی چاہییے یا پهر وہ اس راہ سے انکار کریں جو کہ قرآن نے ان کے لیے کهولا هے قرآن انجیل کی تصدیق کرتا هے اور مزید معلومات لینے کے بارے میں بهی کہتا هے۔ [6]
اس لیے ہیمیں دیکهنا پڑے گا کہ مسیح انجیل میں کون هے؟ رحمت انجیل کی رو سے.





