قرآن کی رو سے رحمت

تعارف

یہ صفحات مسلمانوں کو زہین میں رکھ کر رکهے گيے ہیں تاکہ وه قرآن کی رو سے یہ سب کچه سمجه سکیں۔ مہربانی کرکے قرآن میں سے درج ذیل آیات کی تصدیق کرکے پڑھیں۔

معافی پر قرآن میں بہت بار ذکر فرمایا گیا هے۔

۔ ه تم میں سے نہیں جو رحم نہ کھائے اور دوسروں کی تکیف دور نہ کرے۔ وه جو ہجرت کرنا چاہتے ہیں اور وه جو کرچکے ہیں اور انہوں نے یہ سب اللہ کی راہ میں کیا ہے اور وه سب معاف کیے جائيں گے۔تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟کیونکہ وه رحیم اور معاف کرنے والا ہے (قرآن 22:24)۔

خون کے بدلے خون کا حکم ہے مگر جو شخص معاف کرتا ہے وه ﴿اللہ﴾ کی طرف سے نوازا جائے گا۔ مگر جو بدکار ہیں وه ہرگز نہیں۔ وه جو برایئوں سے توبہ کرتے ہیں اور شرمناک چیزوں کے پاس نہیں جاتے اور جب وه غصہ میں ہوتے ہیں وه معاف کردیتے ہیں(قرآن 42:37)۔

قرآن بتاتا ہے کہ آدمی اپنے گناہوں کا اجر ضرور لے گا اور اسے اچھائیوں کا بھی صلہ ملے گا۔

اچھائی برائی کو ختم کرتی هے

انسان گنہگار ہے جو کہ برائی زیادتی سے کرتا ھے نہ کہ اچهائی۔ یہ کہا جاتا هے کہ ایک اچهائی دس برائیوں کو ختم کرتی هے۔ اس مسئلہ کو حل کیا جاتا هے۔

ه ایک جو اچهائی کرتا ہے دس نیکیاں اس کے حصہ میں ڈالی جائیں گی اور جو گناہ کرے گا اسکی عدالت ہوگی۔ (قرآن 6:160)۔

قرآن بتاتا هے کہ اللہ ان کو پسند کرتا هے جو اچهائی کرتے ہیں نہ کہ ان کو جو برائی کرتے ہیں۔ یہ آیت اس چیز کو ظاہر کرتی ہے کہ اچهے لوگوں کو پسند کیاجاتا ہے نہ کہ برے لوگوں کو جو برائی کرتے ہیں۔

جن کے پلڑے میں اچھائی هے وه بهاری ہیں ان کے پاس سکون اور اطمینان هے لیکن وه جن کے پلڑے برائی سے لدے ہیں وه گہرائیوں میں ڈالے جائیں گے۔ یہ اس بات کی و ضاحت کرتی هے کہ ان کو جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔ (قرآن 101:6)۔

مسلمانوں کے مطابق يوم آخرت کو اچهائی برائی پر غالب آئے گی۔مثال کے طور پر ایک دفعہ کی نماز اور دس برائیاں۔ ان کا مواذنہ ایک جیسا هے۔ یہ اس چیز کو بهی اجاگر کرتی هے کہ انعام اسلام کا بنیادی اصول هے۔ اس لیے اعمال کی راستبازی مسلمانوں کو ایمان رکهنے یا نہ رکهنے کا حق نہیں دیتی۔ روزہ۔ نماز اور خدا پر ایمان صرف فرائض ہیں۔

محمد کا مشن

محمد کا مشن یہ تها کہ وه انکار کرتے ان تمام دیوتاؤں سے جو کہ موجود تهے۔وه تمام جو عرب کے رہنے والے صحابہ تهے جو کہ اس کے ساته تهے۔ وه موجود نہیں ہیں اور نہ کوئی ان کی شناخت ۔ محمد نے فرشتوں اور جنوں کے بارے میں علم فراہم کیا کہ وہ موجود ہیں اور خدا نے انہیں پیدا کیا هے۔ دیوتاؤں کی نفی اسلام کی ایک بہت بڑی جیت هے۔اس سے محمد نے دوسری طاقتوں کی نفی کی اور اتحاد کے مقدس کو ابهارا۔ اور اسی کے نتیجہ میں ان کے صحابہ جو کہ عربی تهے خدا کے ساته ان کا رابطہ بڑها۔جسے وه ﴿الخالق﴾ یا پهر ﴿الحافظ﴾ کہتے ہیں۔ مگر محمد نے خدا کی موجودگی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ [1]

رحم کو ہم محبت کے مساوی نہیں سمجهتے

قرآن میں اللہ کو رحیم کہا گیا هے۔ ﴿الرحیم﴾ یہ نام قرآن میں سب سے زیاده مرتبہ آیا ہے۔ مگر ہم رحم کو محبت کے مساوی نہیں سمجه سکتے۔ پیار دونوں طرف سے ہوتا ہے مگر جو رحم ہے وه آقا اور غلام کے تصور کو پیش کرتا هے۔ محمد اور خدا کا رشتہ وه نہیں ہے جو کہ ایک بیٹے اور باپ کا ہوتا ہے۔ اس ليے محمد نے کبهی خدا کو باپ نہیں کہا۔ محمد اور خدا کےدرمیان جو رشتہ ہے وه صرف اور صرف آقا اور غلام کا هے جو کہ آقا کی فرمابنرداری کرنا ہے نہ کہ اس سےرحمت۔

رحمت

اگر اس کی تعریف کی جائے تو رحمت وه شے هے۔ جب کوئی ہماری طرفداری کرتا هے خدا نے انسان کو دیکها کہ وه گنہگار هے اور پرامید بهی نہیں هے۔ جو مسلمانوں کا خدا کے ساته تعلق، اس بات کو ظاہر کرتا هے کہ وه خدا کو قریب سے نہیں جانتے۔ وه باہمی تعلق سے بہت دور ہیں۔ شریعت اسلام کی بنیاد هے۔ اور شریعت ضرور ہی تسلی بخش هے۔ مسلمان شریعت کے ماتحت ہیں۔ یہ ان کی زندگیوں پر حاوی هے۔زندگی میں اچهائی قرآن میں معافی کے بارے میں بتاتی هے۔ انسان اگر برائی نہ کرے تو وہ بچ سکتا هے۔ قرآن میں نجات کا ہی تصور هے۔ ایک مسلم کے لئے یہ ضمانت نہیں هے کہ اسے تمام گناہوں سے معافی مل سکتی هے۔

ر وه جنہوں نے خدا کی قربت کی تلاش کی اور جنہوں نے اس کے قرب کی تلاش کی اور انہوں نے اس کے رحم کو مانگا اور آگ سے پناه مانگی۔ ان کے لئے دوزخ کی آگ حرام کردی گئی (قرآن 17:57)۔

قرآن میں خدا کی پہچان نہیں۔ اللہ کے ننانوے ﴿99﴾ نام ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ خدا کیا نہیں هے۔ مگر یہ نیہں بتاتے کہ خدا هے کیا؟ یہ ممکن تو نہیں کہ شریعت کے قوانین اور اس کے بوجه سے بچا جاسکے۔ اسلام میں یہ ناممکن هے کہ شریعت کے نیچے رہا جائے بلکہ رحمت کے نیچے رہنا آسان ہے۔ [2]

تمہارا درجہ

یہ آپ کیليے سمجهنا بہت ضروری هے کہ آپ خدا کی رحمت سے کیسے بچاۓ جا سکتے هیں۔ قرآن وکالت کرتی هے اپنے کاموں کے ذریعے سے لوگوں کے بچاۓ جانے پر، وه معافی یا پهر رحمت ہو سکتی هے۔

هاں؟ پهر آپ کیلۓ کوئ امید نہیں هے کہ آپ جو کہ ایک بہت بڑے گنہگار ہیں آپ کیسے اس سے بچ سکتے ہیں۔

نہیں؟ یہاں امید اور مسرت ہمیں اس سبق میں ملتی ہے کہ ہم ایک بڑے گنہگار ہونے کے ناطے کیسے بچ سکتے ہیں۔ یسوع کے پاس آؤ