رحمت انجیل کی رو سے
تعارف
یہ صفحات قرآن اور انجیل کی روشنی میں لکهے گۓ ہیں تاکہ مسلمان حضرت عیسی عیسٰی کو سمجه سکیں۔ مسیح کی انجیل خدا کی وہ قربانی هے جو کہ ہمارے گناہوں کے لیے ہوئ۔
قربانی هے جو کہ ہمارے گناہوں کے لیے ہوئ۔
قربانی کی رسم
قربانی کو سمجهنے کےلیے ہم قربانی کی رسم کی تاریخ کے پنوں میں جهانکتے ہیں۔ ﴿عید الضحی﴾ جو کہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا تہوار هے۔ جب خدا نے حضرت ابراہیم کو اپنے بیٹے کی قربانی کے لیے حکم دیا۔
یہ چیز ہمیں خدا کی قربانی کے صحیح مطلب کے بارے میں آگاہی دیتی هے۔ آدمی کی جگہ جانور کی قربانی دی گئ یعنی کہ آدمی کو عدالت سے بری الذمہ قرار دے دیا گیا جو کہ اس کے اوپر آنے والی تهیں۔ خدا نے دمبے کی قربانی قبول کی۔ ﴿فدا﴾ بچاۓ اس کے جس کو قربان کرنے کے لیے لایا گیا تها۔ پهر اس کے بعد کبهی بیٹا قربان نہیں کیا گیا جب سے ایک دمبے کی قربانی ہوئ۔ پهر اس کی قربانی نہیں ہوگی کیونکہ خدا نے اپنی طرف سے ایک دمبہ قربانی کے لیے عطا کیا۔ قرآن بهی ہمیں اس بارے میں آگاہ کرتا هے۔ کہ اس رسم کے لیے تاوان ادا کیا گیا، اس کا حق ادا کیا گیا۔ یہ وه تها جو کہ خدا نے ابراہیم کے بیٹے کو بچانے کے لیے کیا۔
آپ بهی ان حالات میں ہیں جن حالات میں حضرت ابراہیم کا بیٹا تها۔ آپ مجرم ہیں۔ کیوں؟
تم اپنے آپ کو نہیں بچا سکتےآپ جتنے بهی اچهے کام کریں آپ کو اس بات کا بهروسہ نہیں دلایا جاسکتا کہ آپ ﴿جنت﴾ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس نقطے پر آپ یہ کیہ سکتے ہیں کہ آپ مصوم ہیں کیونکہ آپ نے خدا کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کیا هے۔ تاہم قرآن کہتا هے۔
ر وہ روح جس نے گناہ کیا زمین پر رہتے ہوۓ اس کے لیے انهہیں تاوان ادا کرنا پڑے گا (قرآن 10:54)۔
۔ دوسرے الفاظ میں اگر آپ کے پاس کوئ دنیاوی چیز هے آپ کو اس کا تاوان ادا کرنا پڑے گا اور اگر آپ خدا کو کوئ چیز تاوان کے طور پر دیں یہ بات آپ کو گناہوں سے نہیں بچا سکتی۔ آپ اس حالت میں ہیں جیسے ابراہیم کا بیٹا تها آپ قصوروار ہیں اور موت آپ کی منتظر هے۔
خدا کا برہ
تمہارے گناہوں کا کفارہ کہاں هے؟ کیا یہ ہو سکتا هے کہ خدا آپ کے گناہوں کے کفارے کے لیے کچه کرے؟
هاں خدا نے کیا۔ یوحنا بپتسمہ دینے والا ، اس نے جیسے ہی مسیح کو دیکها اس نے وہ دیکهو خدا کا برہ جو۔
وہ دیکهو خدا کا برہ جو دنیا کا گناہ اٹها لے جاتا هے (انجیل یوحنا 1:29)۔
دنیا کا گناہ اٹها لے جاتا هے مسیح کو قرآن میں بهی بے گناہ قرار دیا گیا هے قرآن﴿ 19:19﴾ محمد نے اپنے گناہوں کے لیے معافی مانگی هے۔ قرآن (48:2, 47:19, 40:55 )- مسیح نے کفارہ ادا کیا۔ اور وہ بهی اپنی آزادانہ مرضی کے ساته۔ جب کہ موت نے اس کو گهیرا پهر بهی وہ مردوں میں سے جی اٹها۔ اب وہ آسمان پر هے۔ اور وہ دهرتی پر واپس آۓ گا۔ هم سب کو مرنا هے۔ ہر ایک نبی اور پیغمبر نے موت کے ذائقے کو چکها ، میں بهی اور آپ بهی مریں گے حتی کہ مسیح نے بهی موت قبول کی۔ مگر وہ کہتے ہیں۔
هم نے مسیح کو مارا جو کہ مریم کا بیٹا تها اور خدا کا نبی مگر انہوں نے اسے نہیں مارا ، اور نہ ہی اسے مصلوب کیا۔ بلکہ وہ اس جیسا کوئ ایک تها ، اور وہ شک میں رهے انہوں نے سوچا کہ انہوں نے اسے مار ڈالا۔ اور خدا نے اسے اپنے پاس اوپر اٹها لیا بے شک خدا بہتر چال چلنے والا هے(قرآن 4:157)۔
یہ بات یہ ظاہر نہیں کرتیں کہ مسیح مصلوب نہیں هوا ، بلکہ اس بات کو ظاہر کرتیں ہیں کہ یہودیوں نے مسیح کو مصلوب کیا وہ اس بات کے ذمےدار تهے۔ وہ نہیں تهے۔ وہ تو صرف ذریعے کے طور پر استعمال ہوۓ بلکہ سچائ یہ هے کہ خدا نے مسیح کو آزادانہ طور پر قربانی دینے کے لیے کہا ، یہ ایک طے شدہ منصوبہ تها جو کہ هم بہت سے نبیوں کی معرفت سن چکے ہیں۔[17]
مسیح نے موت پر فتح پائ تمام نبیوں میں سے اسی کےپاس زندگی هے اس کے الفاظ سنو میں وہی هوں جو مر گیا اور جی اٹها اور میں ہمیشہ تک رہوں گا۔
میں وہی هوں جو مر گیا اور جی اٹها اور میں ہمیشہ تک رہوں گا (مکاشفہ 1:18)۔
میں وہی هوں جو مر گیا اور جی اٹها اور میں ہمیشہ تک رہوں گا (انجیل یوحنا 11:25)۔
اضافی مطالعہ
دعا کے ساته کلام پڑهتے ہوۓ میں نے پڑها میرے تمام گناہ معاف کیے جایيں گے۔ اور میرے پاس یہ ضمانت هے کہ میں جنت میں داخل ہو سکوں۔ مسیح راہ حق اور زندگی هے۔ انجیل یوحنا اور کوئ اس کے وسیلے کے بغیر آکاش پر نہیں جاسکتا یعنی جنت میں۔
وہ جو میری باتیں سنتا هے اور جسے میں نے بهہجا هے اس پر یقین رکهتا هے ہمیشہ کی زندگی اس کی هے اور اس پر سزا کا حکم نہیں وہ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گیا هے کیا آپ اس بات کا عتراف کرتے ہیں (انجیل یوحنا 5:24)۔
کیا آپ اس بات کا عتراف کرتے ہیں کہ آپ گنہگار ہیں اور آپ اسے اپنی زندگی میں بولانا چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے گناہوں
یسوع کے پاس آؤ۔





