مسیح انجیل میں
تعارف
یہ معلومات مسلمانوں کے لیے انجیل سے دی گئ ہیں ، اس لیۓ بائبل میں سے تصدیق کریں مفت بائبل ڈاؤن لوڈ کریں توریت ﴿پیدائش ﴾ ، زبور ، اور انجیل کے بارے میں آگاہی حاصل کریں۔
خدا کا کلام انجیل کہتا هے کہ مسیح کنواری سے پیدا هوا ، وہ بے عیب تها ، وہ آسمان سے اتارا گیا اور وہ دوبارہ واپس آۓ گا ۔ اور انجیل کے مطابق مسیح ایک نبی سے بڑ هه کر تها بلکہ ہر اس شخص سے جو عزت اور تقریم کے لائق هے اور وہ انسانیت کے لیے ایک نجات دہندہ هے۔
مسیح خود کو خدا کا بیٹا کہتا هے
م کتاب مقدس میں ڈهونڈتے هو کیونکہ سمجهتے هو کہ اس میں ہمیشہ کی ذندگی تمہیں ملتی هے اور یہ وہ هے جو میری گواہی دیتا هے (یوحنا 39:5)۔
انجیل کی اصل روح معلمیت یا فلاسفی نہیں هے ، مگر مسیح یسوع ایک شخصیت کے طور پر آپ کے اور خدا کے درمیان رشتہ استوار کرتا هے ۔ اور یہی رشتہ آپ کے اندر اعتماد کو جگہ دیتا هے۔
کیوں کہتے هو کہ میں کفر بکتا هوں جب میں یہ کیتا هوں کہ میں خدا کا بیٹا هوں (یوحنا 10:36)۔
جب انجیل مسیح کے بارے میں کہتی هے کہ وه خدا کا بیٹآ هے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مریم اور خدا کے درمیان کوئ تعلق یا رشتہ هے۔ یہ کفر هے ’ یہ انجیل نہیں هے ۔ مریم ایک کنواری تهی’
متی 1:18)۔)
۔مسیح خدا کا بیٹا تها اور وه لافانی تها
لوقا 1:34)۔)
کوئ باپ کے بارے میں نہیں جانتا سواۓ بیٹا اور کوئ بیٹے کو نہیں جانتا سواۓ باپ کے اور اس شخص پر جس پر بیٹا ظاہر کرنا چآہیے (لوقا 10:22)۔
خدا زمین اور آسمان کا خالق هے ، اور خدا کے علم کی پہچان یا خدا کی پہچان مسیح کے مقدس ہونے میں هے اور وه جانتا هے ۔ اور اس آیت سے ہم کو یہ سبق ملتا هے کہ ہم ان کے بارے میں نہیں جان سکتے جب تک ظاہر نہ کیا جاۓ۔ اس لیے ہمارے پاس علم تو هے مگر مکمل نہیں۔
میں خدا کی طرف سے آیا هوں اور اسی کے پاس جاتا هوں (یوحنا 16:28)۔
یہ مسیح کیا کہتا هے کہ وہ جنم لینے سے پہلے خدا کے پاس تها اور پهر وه مجسم ہو کر دهرتی پر آیا اور جسمانی ہوا اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ روحانی تها ۔ اور اس نے ایک بچے کی طرح پیدائش قبول کی۔
جو اوپر سے آتا هے وہ سب سے اوپر هے ۔ جو زمین سے هے وه زمین ہی سے هے اور زمین ہی کی کہتا هے اور وه جو آسمان سے آتا هے وه سب سے اوپر هے اور جو کچه اس نے دیکها سنا هے اس کی گواہی دیتا هے (یوحنا 3:31)۔
۔۔مسیح آسمان پر سے آیا اور وه مقدس تها ۔ جگہ کی تبدیلی کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانی فطرت کی نفی کی وجہ سے اور جسیے اس نے خدا کی مرضی کو پورا کیا اور ہماری نجات کے کام کو مکمل کیا
خدا کو کسی نے نہیں دیکها اسی نے اس کو ظاہر کیا یعنی اکلوتے نے جو اس کی گود میں تها
یوحنا 1:18)۔)
مسیح خدا کا اکلوتا هے ۔ خدا کی آواز سنائ نہ دی نہ ہی اس کی پرچهائ نہ ہی وہ کسی فرشتے نہ ہی کسی انسان کو دیکهائ دیا ۔ خدا دیکهائ نہیں دیتا ۔ نہ ہی وہ بدن کی آنکهوں سے دکهائ دیتا هے اور نہ ہی عقل مندی کی نگاہ سے۔ انسان خدا کے بارے میں کچه نہیں جانتا اور نہ ہی اس کے نجات کے رستوں کو جانتا هے هاں صرف مسیح کے ذریعے سے ، وہی اکلوتا بیٹا هے جو شروع سے اس کے ساته هے۔لفظ ﴿اکلوتا ﴾ یہ ظاہر کرتا هے کہ اس اکیلے کا تعلق ہی اس کے ساته هے۔
اور اس کی پوشاک نور کی مانند سفید ہو گئ ۔ اور دیکهو موسی اور ایلیاہ اس کے ساته باتیں کرتے ہوۓ دکهائ دیۓ ۔ پطرس نے اس سے کہا اے خداوند ہمارا یہاں رہنا اچها هے ۔ مرضی ہو تو میں یہاں تین ڈیرے بناؤ ۔ ایک تیرے لیے ۔ ایک موسی کے لیے ۔ اور ایک ایلیاہ کے لیے ۔ وہ یہ کہہ ہی رہا تها کہ ایک نورانی بادل نے اس پر سایہ کردیا ۔ اور بادل میں سے آواز آئ یہ میرا پیارا بیٹا هے جس سے میں خوش ہوں اسکی سنو ۔ شاگرد یہ سن کر منہ کے بل گر پڑے اور بہت ڈر گۓ ۔ یسوع نے پاس آکر ان کو چهوا اور کیا اٹهو ۔ ڈرو مت ۔ جب انهوں نے آنکهیں آٹهائیں تو یسوع کے سوا کسی کو نہ دیکها (متی 17:2)۔
‘اور ان کے سامنے اس کی صورت بدل گئ’ یہ مسیح نے شاگردوں کے اوپر ظاہر کیا کہ وہ روحانی هے ۔ اور اس کا چہرہ سورج کی مانند چمکا ۔ ﴿متی 17:2﴾ موسی اور ایلیاہ اسکے ساته باتیں کررہے تهے یہ مسیح کے مالک ہونے کی خاصیت کو ظاہر کرتا هے ۔ اور وہ ایسے تهے جیسے وہ اسکے ماتحت هوں۔ اس کی خاصیت ان سے بڑهه کر تهی یہ میرا پیارہ بیٹا هے اس کی سنو یہ ہیمیں مسیح کے جلالی ہونے کے بارے میں آگاہی دیتی هے ۔
یسوع نے اس نے کہا کہ راہ اور حق اور زندگی میں هوں ۔ کوئ میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا (یوحنا 14:6)۔
خدا کی نعمتوں کا ذریعہ هے مسیح صرف سچا نہیں بلکہ وہ سچائ هے ۔ اور کسی بهی مذہب کے پاس کوئ رستہ نہیں سواۓ مسیح کے ذریعے سے ہی ہم خدا تک پہنچ سکتے هیں ۔
بے شک مسیح زندہ هو گیا
بے شک خداوند جی اٹها هے (لوقا 24:34)۔
جسیا کہ حضرت محمد اور دوسرے انبیاہ اس وقت قبروں میں هیں سواۓ مسیح کے جو مردوں میں سے زندہ هوا ۔ وه محفوظ هے اور دنیا کا نجات دہندہ ۔ کیا ہم مکمل زندگی جی سکتے هیں اپنے پیچهے پرشانیاں ، مجبوریاں چهوڑتے هوۓ ، مسیح زندہ هو گیا اور وہ آپ کو اعتماد میں لینا چاہیتا هے ۔ کے آپ اس کو پہچان سکیں وه ایک نئ زندگی کی منصوبہ بندی کرنا چاہتا هے وہ دیکهانا چآہتا هے جو آپ سے چهپا ہهوا هے ۔ نجات اور رحم کا راستہ ، مسیح نے کہا دروازہ میں هوں جو اس دروازے سے داخل هوتا هے وہ آیا جایا کرے گا اور چارہ پاۓ گا (یوحنا 10:9)۔
اور خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکهی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹآ بخش دیا تاکہ جو کوئ اس پر ایمان لاۓ ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پاۓ (یوحنا 3:16)۔
یہ آیت خدا کی محبت کا سبق هے خدا نے اپنا اکلوتا بیٹا اس گنہگار دهرتی کو دیا اسلام میں اور دنیا کے دوسرے مذاہب نے ، سلامتی یا نجات انسان کے اپنے اعمال پر منحصر هے مگر خدا راستبازی کے ساتهه پر جلال بهی هے کیونکہ خدا راستباز اس لیے اس نے انسان کے گناہ کا سطحی جائزہ نہیں لیا بلکہ اس کا انصاف کیا ۔ آپ گنہگار هیں ۔ آپ اپنے گناہوں کو نہیں دهو سکتے کیونکہ خدا راستباز هے جب انسان نے گناہ کیا وه مر گیا مگر خدا رحیم هے ۔ مسیح انسانوں کے لیے موا اس لیے انسان آزاد هو گیا ۔ یعقین کرو مسیح آپ کے گناہوں کے لیے قربان هوا هے ۔ اگر آپ اس بات پر ایمان رکهیں گے کہ وہ آپ کے لیے موا ، دفنایا گیا اور دوبارہ زندہ هوا تو پهر ضرور ہی آپ نجات حاصل کریں گے یہ نجات ایمان کے ذریعے سے ہی ممکن هے ۔اگر دنیا مسیح کو رد کرے گی پهر خدا اسے مٹاۓ گا صرف یہ جانیے کہ مسیح اس دنیا کی افضل ترین شے هے۔
میں اس لیے آیا کہ وہ زندگی پائیں بلکہ کثرت سے پائیں (یوحنا 10:10)۔
انسانی شکل میں اس دنیا میں آیا اس نے اپنا جسم اپنی روح اس دنیا کو دی تاکہ سب لوگ زندگی پائیں مسیح کی زندگی کے ذریعے سے ہی انسان سچی تہذیب کو جان سکتا هے۔
مسیح آپکی مدد کرے گا
مسیح نے بہت سارے معجزات کیے دوسرے کئ لوگوں نے بهی کیے لیکن انهوں نے یہ سب کچهه خدا کے اختیار سے کیا مگر مسیح کے پاس جو طاقت تهی کیا وہ اسکی کی اپنی تهی؟ اس سوال کے جواب کے لیے ہم پہلے خدا کی طاقت کو جانے گے جس کے ذریعے سے اس نے دنیا خلق کی (یدائش 2:4)۔ :
اے لشکروں کے خدا ، تو جو زبردست خدا هے وفاداری تیرے چوگرد هے تو هے جو سمندر کے جوش و خروش کو روکتا هے اور اسکی اٹهتی ہوئ لہروں کو قابو میں کرتا هے (زبور 89:8)۔
جب سمندر کی لہریں جوش کهاتی ہیں وہ ان کو روکتا هے وہ سب اپنی آواز بلند کرتے هیں اے خدا ان لہروں کو تهما دے وہ اپنے بچوں کی پکار سنتا هے یا پهر کوئ آقا جس کے ماتحت اس کو آواز دیں کیا مسیح یہ طاقت رکهتا هے ؟ اس کا جو آ پ سے رشتہ هے کیا وہ آپ کو بچا سکے گا ؟
کیا کوئ ایسا هے جو اسکے ہاته تلے سے نکال لے جاۓ نیچے دی گئیں آیات پڑهیں۔
وہ مصیبت میں خدا کو
زبور 107:26)۔)
وہ آسمان تک چڑهتے اور گہراؤ میں اترتے هیں ، پرشانی سے ان کا دل پانی پانی هو جاتا هے ۔ اور وہ جهومتے اور متوالے کی طرح لڑکهڑاتے هیں۔ اور حواس باختہ هو جاتے هیں تب وہ اپنی مصیبت میں خدا سے فریاد کرتے هیں، اور وہ ان کے دکهوں سے ان کو رہائ بخشتا هے ۔ اور آندهی کو تهما دیتا هے۔ اور لہریں ماقوف ہو جاتیں هیں تب وہ اس کے تهم جانے سے خوش هوتے هیں۔ یوں وه ان کو منزل پر پہنچا دیتا هے۔
وہ مصیبت میں خدا کو پکارتے هیں
مرقس4:37)۔)
تب بڑی آندهی چلی اور لہریں کشتی میں آتیں تهیں اور کشتی ڈوبے جاتی تهی۔ اور وہ خود پیچهے گدی پر سو رہا تها ۔ انهوں نے اس سے کہا اے استاد تجهے فکر نہیں کہ هم ہلاک هوۓ جاتے هیں۔ اس نے اٹهه کر ہوا کو ڈانٹا اور پانی سے کہا تهم جا پس ہوا بند ہو گئ اور بڑا امن ہو گیا ۔ پهر ان سے کہا تم کیوں ڈرتے هو کیا تم ایمان نہیں رکهتے ؟ اور وہ نہایت ڈر گۓ اور آپس میں کہنے لگے کہ یہ کون هے ہوا اور پانی بهی اس کا حکم مانتے هیں؟
ہم دیکهتے هیں کہ شاگردوں کی حالت ویسی ہی هے جیسی کہ (زبور 107:26) میں بیا ن کی گئ هے۔ شاگرد اپنی مصیبت میں مسیح یسوع کو پکارتے هیں تاہم مسیح کے متعلق ان کا ایمان کمزور هے وه سوتے هو ۓ بهی ان میں ایمان بهر سکتا تها مگر مسیح نے یہ ظاہر کیا کہ وہ طاقتور هے۔ ہوا تهم گئ اور بڑا امن ہو گیا ۔اس لیۓ آندهی (مرقس1:27)۔ اور (لوقا 17:6)۔ هے؟ کہ آندهی اور سمندر اس کا حکم مانتے هیں وہ کوئ اور نہیں بلکہ قادر مطلق خدا هے۔ کیونکہ آندهی اور سمندر اسی کا حکم مانتے هیں۔ مسیح کے پاس صرف طاقت ہی نہ تهی بلکہ وہ قوت کا منبع بهی تها ۔ ہیمیں صرف اس بات کی یقین دہانی کرنی چاہییے مسیح مکمل طور پر اور پوری سچائ کے ساتهه خدا تها۔ جسیا کہ اس کے شاگردوں نے بهی سلیم کیا ۔
پس پیارے دوستوں میں امید کرتا هوں کہ اس صفحے کے اختیتام پر آپ کو یقین ہو گا کہ مسیح کے پاس قوت هے آپ کی مدد کرنے کے لیے ۔ ہم اس کو دوسری طرح بهی سمچهه سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم اس زندگی کو سمندر کی شکل دیں ہم اس میں پهنسے ہوۓ هیں ، دنیاوی پرشیانیاں ہر طرف نفرت هے محبت نظر نہیں آتی خدا کی ذات پر کفر بکا جاتا هے جو لوگ لیڈر هیں وہ بہت مغرور هیں۔ وہ لہروں کی طرح هیں مگر مسیح ان کے غرور اور غصے کو کم کرے گا اس لیے مسیح کے بندوں کو ان سے ڈرنا نہیں چاہییے۔
آپ ہهی سچ جان سکتے هیں اور مسیحیت کی برکات کو اپنا سکتے هیں تم سچائ کو جانو گے اور وہ تمیں آزاد کریگی (یوحنا 8:32)۔






